News

6/recent/ticker-posts
Visit Dar-us-Salam.com Islamic Bookstore Dar-us-Salam sells very Authentic high quality Islamic books, CDs, DVDs, digital Qurans, software, children books & toys, gifts, Islamic clothing and many other products.Visit their website at: https://dusp.org/

معاشی استحکام کیلئے پالیسیوں کا تسلسل ضروری

رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں پاکستان کی مجموعی برآمدات کا حجم 23.30 ارب ڈالر رہا ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے۔ اس عرصے کے دوران سب سے زیادہ اضافہ ٹیکسٹائل گروپ کی برآمدات میں ہوا ہے جس کا مجموعی حجم 14.26 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریبا 22 فیصد زائد بنتا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق برآمدات میں اضافے کا یہ سلسلہ گزشتہ ماہ بھی جاری رہا اور مارچ 2022 میں 2.74 ارب ڈالر کی مجموعی برآمدات ہوئی ہیں جو پچھلے سال کےاسی عرصے کے دوران ہونے والی برآمدات سے 16 فیصد زائد ہیں۔ مارچ میں ہونے والی برآمدات میں ٹیکسٹائل کا شیئر تقریباً 1.7 ارب ڈالر رہا۔ یہ اعدادو شمار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل کی برآمدات کا حجم تقریباً 60 فیصد سے زائد ہے۔

علاوہ ازیں ویلیو کے لحاظ سے ٹیکسٹائل گروپ میں نٹ وئیر کی برآمدات میں 33 فیصد، ریڈی میڈ گارمنٹس میں 22 فیصد، بیڈ وئیر میں 19 فیصد، کاٹن کلاتھ میں 24 فیصد، کاٹن یارن میں 41 فیصد، ٹاولز میں 15 فیصد، میڈاپس میں 10 فیصد، آرٹ سلک اینڈ سنتھیٹک ٹیکسٹائل میں 31 فیصد، مین میڈ فائبر میں سو فیصد اور کپاس کی برآمد میں 782 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے اچھی بات یہ ہے کہ روایتی مارکیٹس میں روایتی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں تیار ہونے والی غیر روایتی مصنوعات کی برآمدات میں بھی 32 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ نئی منڈیوں میں کی جانیوالی برآمدات کے حجم میں بھی 80 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں جاری کئے گئے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق امریکہ کو برآمدات میں 43 فیصد، چین کو 25 فیصد، نیدرلینڈز کو 12، سپین کو 29 فیصد، بنگلہ دیش کو 70 فیصد، تھائی لینڈ کو 278 فیصد، سری لنکا کو 51 فیصد، ملائیشیا کو 90 فیصد اور قازقستان کو برآمدات میں 229 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ اعداد وشمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کے لحاظ سے عالمی مارکیٹ میں اپنا کھویا ہوا شیئر واپس حاصل کر لیا ہے اور اب اسے بڑھانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو دیا گیا اسپیشل انرجی پیکیج، بہتر ایکسچینج ریٹ اور ریفنڈز کی آٹومیشن ہے۔ اگر ٹیکسٹائل انڈسٹری سے متعلق پالیسیوں کا تسلسل آئندہ بھی اسی طرح جاری رہتا ہے تو رواں مالی سال کے لیے طے کردہ 21 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمدات کا ہدف با آسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری پر فوکس کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ سیکٹر ملک کی مجموعی لیبر میں سے 40 فیصد کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔ اس حوالے سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز پہلے ہی اپنی استعداد کار کو بڑھانے کے لیے تقریباً پانچ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں اور آنے والے وقت میں اس سرمایہ کاری میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں اگر پاکستان نے 21 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے حکومت کو چند بڑی مشکلات پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ 

ان میں سب سے بڑا مسئلہ سرمائے کی قلت ہے کیونکہ اب بھی ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے اربوں روپے کے ریفنڈز واجب الا دا ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹرز کو شپنگ کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھی بہت سا درآمدی مال پورٹ پر پڑا ہے لیکن اسے بیرون ملک بھیجنے کے لیے کنٹینرز نہیں مل رہے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے خالی کنٹینرز کو پاکستان میں رکھنے کی زیادہ سے زیادہ مدت کو چھ ماہ سے بڑھا کر نو ماہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انڈسٹری کو بلا تعطل بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانے اور لانگ ٹرم فکسڈ ٹیرف متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو درپیش انرجی بحران جلد سے جلد حل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت انڈسٹری کو گیس کی سپلائی میں 50 فیصد کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے برآمدی آرڈرز بروقت مکمل کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر ہماری مصنوعات تیار کرنے کی لاگت کم ہو گی تب ہی عالمی مارکیٹ میں ہم دیگر ممالک کا مقابلہ کر سکیں گے۔

علاوہ ازیں دیگر کاروباری شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کو جامد ہونے سے بچانے کے لیے شرح سود کو کم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے شرح سود میں اچانک اتنا زیادہ اضافہ کر دیا گیا ہے کہ اس سے اوپر اٹھتی ہوئی معیشت دوبارہ نیچے کی طرف جانا شروع ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام بھی ضروری ہے تاکہ بیرون ملک سے خام مال کی خریداری اور ایکسپورٹ آرڈرز کے حصول کے لیے ایکسپورٹرز کو طویل المدت منصوبہ بندی کرنے کا موقع مل سکے۔ یہ اقدامات کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ برآمدات اور درآمدات میں عدم توازن کے باعث رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں تجارتی خسارے کا حجم 35.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ برآمدات کو ترقی دے کر اس خسارے پر قابو پایا جائے۔

کاشف اشفاق

بشکریہ روزنامہ جنگ
 

Visit Dar-us-Salam Publications
For Authentic Islamic books, Quran, Hadith, audio/mp3 CDs, DVDs, software, educational toys, clothes, gifts & more... all at low prices and great service.

Post a Comment

0 Comments