News

6/recent/ticker-posts
Visit Dar-us-Salam.com Islamic Bookstore Dar-us-Salam sells very Authentic high quality Islamic books, CDs, DVDs, digital Qurans, software, children books & toys, gifts, Islamic clothing and many other products.Visit their website at: https://dusp.org/

سلیکٹڈ سے امپورٹڈ کا معرکہ

پاکستان کی سیاست میں یوٹرن آگیا، پی ٹی آئی کی سلیکٹڈ حکومت رُخصت ہو گئی اور پی ڈی ایم کی امپورٹڈ حکومت آگئی۔ خدا کی قدرت کل تک جو بلاول بھٹو اور مریم نواز سلیکٹڈ سلیکٹڈ کہتے نہیں تھکتے تھے، وہ قومی اسمبلی میں پہلے ہی دن امپورٹڈ امپورٹڈ کی تکرار سن رہے ہیں۔ اس تبدیلی کا ایک معاشی خاکہ پیش ہے گزشتہ ایک سال سے 7 جنوری تک ڈالر 170 روپے پر اٹکا ہوا تھا، سونا بھی کبھی 50 روپے اور کبھی 100 روپے بڑھتا گھٹتا رہا، اسٹاک ایکسچینج بھی معمولی ردوبدل کا شکار رہا مگر جب 7 مارچ کو پی ڈی ایم نے عدم اعتماد کی قرار داد پیش کی تو گویا ڈالر اور سونے کو غیبی پہیے لگ گئے۔ صنعتکار، اسٹاک ایکسچینج میں روزانہ 2 ہزار سے 3 ہزار تک گھاٹا دکھا کہ 250 سے 300 ارب کا سرمایہ ڈبوتا رہا۔غیبی ہاتھ دونوں ہاتھوں سے روزانہ کی بنیاد پر پہلے 2 ارب ڈالر خرید کر دام بڑھاتے رہے۔ حتیٰ کہ آخری دن تک 190 روپے کی آخری سطح تک لے آئے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر جو خود بھی آئی ایم ایف کی سوغات ہیں، وہ قوم کو دیوالیہ پن اور سری لنکا کی معاشی بدحالی کا عکس دکھاتے رہے۔ 

چنانچہ سونا مارکیٹ سے سونا غائب ہو گیا اور اسٹاک ایکسچینج سے خریدار غائب ہو گئے۔ ایک طرف رمضان المبارک کی رسمی مہنگائی چینی، آٹا، گھی نا پید ہونے لگا، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا۔ تمام بڑے شہروں میں زبردست لوٹ مار، موٹر سائیکلز اور گاڑیاں بلوچستان کے راستے افغانستان اور ایران پہنچنے لگیں۔ انتظامیہ خاموش، پولیس خود مل کر ڈاکوئوں اور چوروں کو تحفظ دینے لگی۔ جب معیشت کا جہاز ہچکولے کھانے لگا تو حالات نے ایک دم پلٹا کھایا اور آناً فاناً راتوں رات عمران خان کی عدم اعتماد 174 اراکین کی گنتی گنوا کر صبح کی تازہ سیاسی ہوا کی نوید سنا دی گئی۔ وہ میڈیا جو روزِ اول سے سلیکٹڈ کے خلاف تھا، وہ یکایک امپورٹڈ کی گو د میں براجمان ہو گیا اور جو گدلے پانی سے منہ دھو رہے تھے جن کو قوم ایک ایک کر کے آزما چکی تھی۔ سندھ ہائوس، اسمبلی لاج، منحرف اراکین اربوں روپے یا مراعات، وزارتوں، گورنری کے لالچ میں سب بُک ہو گئے۔ یعنی بِک گئے۔ 

وہ عوام کو اصلی چہرہ دکھا گئے، عمران خان کی خودی کی تاریخ کی بہت عرصہ کے بعد برات تھی، دھوم دھام سے نکلی۔ مجھے کیوں نکالا یا مشرف والا الوداعی ڈرامہ نہیں ہوا۔ قوم نے دیکھا دوسرے دن باوجود رمضان المبارک کی عبادتوں کے قوم نے خیبرسے لے کر کراچی تک 60 شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آکر عمران خان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ عمران خان پشاور، لاہور اور کراچی کے تاریخی جلسوں کا اعلان کر کے میدان میں پھر نکل آیا ہے۔ کراچی جیسے شہر میں تین تلوار سے میلینم مال تک لاکھوں افراد کا جلوس ریڈزون میں اور لاہورمیں عوام کا سڑکوں پر آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ قوم جاگ چکی ہے۔ ملتان میں حکومتی جلوس پر عوام کی یلغار بھی قوم نے دیکھی ہے ۔ خدا تصادم سے عوام کو دور رکھے۔ شہباز شریف صاحب کے دوروں کا اعلان ہو چکا ہے۔ پی ٹی آ ئی کے ضمیر فروش جن کو عوام بھی پہچان چکے، اگلے الیکشن تک راندِ درگاہ ہو چکے ہونگے۔ فی الحال عمران خان نے نئے الیکشن کی تاریخ کے اعلان تک سڑکوں پر رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ 

اسی کی کڑی پشاور کا جلسہ تھا جس میں KPK کے پختون عوام نے زبردست جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا، انہوں نے کل کراچی میں مزارِ قائد پر جلسہ کیا۔ ان کو کراچی کے عوام سے بھی زبر دست پذیرائی کی امید تھی۔ اگرچہ کراچی والوں نے ان کی حکومت میں بڑی قومی اور صوبائی سیٹیں پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈالیں تھیں اور عمران خان صاحب نے 1100 ارب کے خصوصی پیکیج کا بھی اعلان کیا تھا مگر عملاً کچھ بھی نہیں کیا تھا اس کے برعکس پی ڈی ایم کی اس نئی حکومت نے ایم کیو ایم کی بدولت حکومت ملنے کے بعد جو معاہدے کئے ہیں جن کے تحت اتحادی جماعت کو سرکاری نوکریاں، کوٹہ سسٹم کا خاتمہ اور گورنر سندھ بنائے جانے کے وعدے کیے گئے ہیں۔ پہلی مرتبہ دونوں حکومتوں میں کراچی والوں کو منانے کے زبردست پروگرام رکھے گئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون آنے والے الیکشن میں کراچی والوں کو خوش کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

اس کے برعکس ایم کیو ایم نے اپنے آپ کو مرکزی حکومت میں شامل نہ ہونے اور باہر بیٹھ کر اپنے مطالبات منوانے کا پلان بنا رکھا ہے اور ہمیشہ کی طرح باہر بیٹھ کر وہ دونوں حکومتوں کو بلیک میل کرتی رہے گی اور اپنے ذاتی ایجنڈے پر کام کرے گی۔ فی الحال کراچی کے پڑھے لکھے عوام نے پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے دوسرے دن پی ٹی آئی حکومت کی معزولی پر زبردست جلوس نکال کر عوام دوستی کا مظاہرہ کیا تھا اور اب اتوار کا جلسہ اگلی راہ متعین کرے گا۔ پہلی مرتبہ بھی کراچی والوں نے عمران خان کا ساتھ دیا تھا اس مرتبہ جوش و جذبہ پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ دوسری طرف پی ڈی ایم بھی کراچی والوں کا دل جیتنے کا ارادہ لئے میدان میں عملی طور پر اترے گی۔ اگر دونوں طرف سے پر امن کوششیں ہوئیں تو کراچی کے عوام کی مایوسی کے بادل چھٹنے کا قوی امکان ہے۔ یہ سب ایک سال کی کارکردگی پر منحصرہے ۔ اللہ پاک پاکستان کو دشمنوں کی نظرِ بد سے بچائے، آمین۔

خلیل احمد نینی تال والا

بشکریہ روزنامہ جنگ

Visit Dar-us-Salam Publications
For Authentic Islamic books, Quran, Hadith, audio/mp3 CDs, DVDs, software, educational toys, clothes, gifts & more... all at low prices and great service.

Post a Comment

0 Comments