News

6/recent/ticker-posts
Visit Dar-us-Salam.com Islamic Bookstore Dar-us-Salam sells very Authentic high quality Islamic books, CDs, DVDs, digital Qurans, software, children books & toys, gifts, Islamic clothing and many other products.Visit their website at: https://dusp.org/

قومی ایجنڈا کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو ساتھ بٹھانے کیلئے کوششیں جاری

ملک کی معیشت، گورننس، احتساب اور عدالتی نظام جیسے بنیادی معاملات کو درست کرنے کی خاطر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو ایک جگہ بٹھا کر قومی ایجنڈا کیلئے رضامند کرنے کیلئے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کسی بھی طرح کے تنازعات سے بچنے کیلئے ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایسا کوئی بھی کردار ادا کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ تاہم، جو اسے کردار ادا کرنے کیلئے آمادہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ان کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح دو فریقوں کو ملا کر بٹھایا جائے کیونکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات انتہائی خراب ہیں۔ اپنے ساڑھے تین سال کے دورِ حکومت میں وزیراعظم عمران خان ایک مرتبہ بھی اپوزیشن کے ساتھ نہیں بیٹھے۔ انہوں نے اپوزیشن والوں کو نظرانداز کیا، حتیٰ کہ قومی اہمیت کے حامل معاملات پر بات چیت کیلئے منعقدہ اجلاسوں میں بھی اپوزیشن والوں کے ساتھ نہیں بیٹھے۔

ایسے موقع پر جب اپوزیشن والے سمجھتے ہیں کہ میدان عمران خان کو نکال باہر کرنے کیلئے سج چکا ہے، امکانات نہیں کہ عمران مخالف سیاسی قوتیں عدم اعتماد کی تحریک کا نتیجہ سامنے آنے تک ایسی کسی کوشش کیلئے آمادہ ہوں گی۔ ان کوششوں میں مصروف ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کیا ہے لیکن کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ سیاسی معاملات سے دور رہے بھلے ہی اس کا مقصد ماضی کی طرح کسی ایک جماعت یا دوسری جماعت کی حمایت کے برعکس صرف حکومت اور اپوزیشن کو ایک جگہ بٹھانا ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم، ان ذرائع کا کہنا ہے کہ کوشش جاری رکھی جائے تو اسٹیبلشمنٹ شاید اس پر راضی ہو جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان اور اپوزیشن والوں کو ایک ساتھ ایک جگہ کیسے بٹھایا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن والوں میں سے شہباز شریف کو منانے میں مشکل نہیں ہو گی لیکن یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان ایسی کسی تجویز پر کیا جواب دیں گے۔

سنہ 2018ء کے الیکشن کے فوراً بعد، شہباز شریف اور آصف زرداری نے ایوان میں کھڑے ہو کر اتفاق رائے کے ساتھ گورننس اور معیشت وغیرہ کیلئے پالیسیاں مرتب کرنے کے معاملے میں حمایت دینے کی پیشکش کی تھی۔ لیکن حکومت نے ان کی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا جس کی بنیادی وجہ وزیراعظم عمران خان کا اپوزیشن پر وہ غصہ تھا جو ٹھنڈا نہیں ہوا اور دونوں فریقوں کے درمیان معاملات نیب کے اپوزیشن والوں کیخلاف کیے جانے والے اقدامات کی وجہ سے بگڑتے چلے گئے۔ عدم اعتماد کی تحریک کا نتیجہ چاہے کچھ ہو لیکن خدشہ ہے کہ اس تحریک کی وجہ سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملات مزید خراب ہو جائیں گے اور اس خرابی کے اثرات نیچے تک جا کر عوام کو بھگتنا پڑیں گے کیونکہ حالات کی وجہ سے وہ مزید منقسم ہو جائیں گے۔ مذاکرات شروع کرانے کی کوششوں میں مصروف ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں بمشکل ہی اپنا مزاج تبدیل کریں گی اور اپنے اپنے سیاسی مفادات کی وجہ سے لڑائی جاری رہے گی۔

کہا جاتا ہے کہ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ کم از کم انہیں معیشت، گورننس (سول سروس)، احتساب اور عدالتی نظام کے حوالے سے بنیادی پالیسیوں پر اتفاق رائے کیلئے آمادہ کیا جانا چاہئے تاکہ ان کی لڑائی اگر جاری بھی رہے تو بنیادی معاملات بدستور وہی رہنے چاہئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر دونوں راضی نہیں ہوتے تو انہیں اس بات پر آمادہ کیا جانا چاہئے کہ عدم اعتماد کی تحریک کے بعد (چاہے اس کا نتیجہ کچھ ہو اور حکومت میں کوئی بھی ہو) دونوں فریقوں کو ملا کر بٹھانا چاہئے۔ گزشتہ ہفتے، دی نیوز نے خبر شائع کی تھی کہ حکومت کے ایک اہم عہدیدار نے حال ہی میں طاقتور شخص سے رابطہ کر کے ان سے کردار ادا کرنے کیلئے کہا تھا تاکہ ملک کیلئے مشکلات کا باعث بننے والی تقسیم کی موجودہ سیاست کو ختم کیا جاسکے۔ طاقتور شخص سے رابطہ کر کے انہوں نے کہا کہ تقسیم کی اس سیاست سے عوام کا زبردست نقصان ہو رہا ہے اور اپوزیشن کی وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اس تقسیم میں مزید اضافہ ہو گا، یہ مدد کسی پارٹی کی حمایت حاصل کرنے یا کسی اور مقصد کیلئے طلب نہیں کی گئی تھی بلکہ اس کا مقصد ایک طرف عدم اعتماد کی تحریک سے بچنا، جلد انتخابات کی راہ ہموار کرنا اور بہتر سیاست اور اچھی طرز حکمرانی کیلئے اصلاحات لانا تھا۔

دی نیوز نے سرکاری عہدیدار سے رابطہ کیا تھا، وہ موجودہ صورتحال سے بہت پریشان تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ حالات جیسے جیسے آگے بڑھیں گے تقسیم کی سیاست میں مزید اضافہ ہو گا جو کسی بھی سیاسی جماعت، ادارے اور سب سے بڑھ کر ملک کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے اس نمائندے کو بتایا تھا کہ اِس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بہتر رابطے کے قیام کیلئے مدد کی ضرورت ہے تاکہ اپوزیشن اور حکومت والوں کو ایک جگہ بٹھا کر مستقبل کے سیاسی روڈ میپ اور اصلاحات کے ایجنڈے پر اتفاق کرایا جائے جس سے ملک کے عوام کا مستقبل اور پاکستان میں جمہوریت کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام اچھے ثالث اور ضامن کے بغیر ممکن نہیں۔

 انصار عباسی

بشکریہ روزنامہ جنگ

Visit Dar-us-Salam Publications
For Authentic Islamic books, Quran, Hadith, audio/mp3 CDs, DVDs, software, educational toys, clothes, gifts & more... all at low prices and great service.

Post a Comment

0 Comments