بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکوڈک کا علاقہ سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے اور یہ خبر بلاشبہ انتہائی خوش آئند ہے کہ بین الاقوامی کنسورشیم ٹیتھیان سے تنازع کے سبب ان ذخائر پر پچھلے 11 سال سے رکے ہوئے کام کے ازسرنو شروع ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ٹیتھیان میں کینیڈا کی سونے کی فرم بیرک اور چلی کی اینٹوفاگاسٹا منرلز نامی کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کنسورشیم نے بلوچستان میں ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر تلاش کیے تھے لیکن مقامی حکومت کی جانب سے ٹیتھیان کی لیز کی تجدید سے انکار کے بعد 2011ء میں اس پروجیکٹ پرکام رک گیا تھا اور 2013ء میں سپریم کورٹ نے یہ معاہدہ کالعدم قرار دے دیا تھا جس پر کمپنی نے عالمی عدالت سے رجوع کیا اور 2019ء میں عالمی بینک کی ثالثی ٹریبونل کمیٹی نے معاہدے کی منسوخی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ کمپنی سے عدالت سے باہر تصفیے کے نتیجے میں پاکستان پر تقریباً 11 ارب ڈالر کا جرمانہ ختم ہو گیا ہے اور اب بیرک اور اس کی پارٹنر کمپنیاں پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی جس سے پاکستان اور بلوچستان کو آئندہ ایک صدی تک فائدہ ہو گا۔ منصوبے کی تشکیل نو کے بعد بیرک کے حصص پچاس فیصد جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پچیس پچیس فیصد ہوں گے۔ وزیراعظم کی ایک بیان میں ظاہر کردہ یہ توقع بلاشبہ حقیقت بن سکتی ہے کہ یہ پیش رفت اِن شاء اللہ ملک کو قرضوں سے نجات دلانے اور ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کا باعث بنے گی بشرطے کہ کرپشن کے خدشات کے قطعی سدباب کیلئے اس کام میں سو فی صد شفافیت کا مکمل اہتمام کیا جائے اور قدرت کی اس مہربانی کو مقامی لوگوں کو غربت سے نجات دلانے اور ان کی زندگیوں کو خوشگوار بنانے کیلئے پوری کشادہ دلی سے استعمال کیا جائے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ
Visit Dar-us-Salam PublicationsFor Authentic Islamic books, Quran, Hadith, audio/mp3 CDs, DVDs, software, educational toys, clothes, gifts & more... all at low prices and great service.




0 Comments