پاکستان اور سری لنکا کوعالمی سطح پر دوست ممالک سمجھا جاتا ہے، جنوبی ایشیا میں واقع دونوں ممالک مختلف معاملات میں ایک دوسرے کے بے حد قریب ہیں اور دونوں نے ماضی میں کم و بیش ایک جیسے حالات کا سامنا کیا ہے۔ قدرتی مناظر سے مالامال سری لنکا صدیوں سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور دلکش ساحلِ سمندر، وائلڈ لائف، ہیریٹج مقامات سمیت دیگر مناظر عالمی سیاحوں کا دل جیت لیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ سری لنکا جو دو سال قبل تک خطے کا خوشحال ترین ملک تھا، آج وہاں سے بے حد منفی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ آج دنیا کے خوبصورت جزیرے کو ایک بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے، وہاں بجلی اور ایندھن کے بحران کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی شدید قلت ہے، خزانے میں اتنی رقم موجود نہیں کہ عالمی خریداری کی جاسکے، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، مقامی کرنسی شدید گراوٹ کا شکار ہے،
اسپتالوں میں ادویات کی قلت ہے، اسکولوں میں بچے تعلیم سے محروم ہیں، پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات آرہی ہیں، امن و امان کی صورتحال قابو میں لانے کیلئے کچھ علاقوں میں کرفیو بھی لگانا پڑا ہے، رقوم کی عدم دستیابی کے باعث کئی ممالک میں سری لنکا کے سفارت خانے غیرفعال ہو چکے ہیں، نجی کاروباری ادارے ملازمین کو تنخواہیں ادا نہ کرنے کی وجہ سے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں۔ بازاروں میں خریداری کیلئے کچھ میسر نہیں، لوگ پیٹرول پمپ پیسے لے کر جاتے ہیں لیکن پیٹرول دستیاب نہیں، بچوں کی فیس ادا کر سکتے ہیں لیکن اسکول بند ہیں، وہ منہ مانگی قیمت پر ایندھن خریدنے پر آمادہ ہیں لیکن مارکیٹ میں گیس کا سیلنڈر نہیں مل رہا۔ آج سے فقط چند سال قبل سری لنکا کا شمار دنیا کے ان چند خوشحال ممالک میں ہوتا تھا جنہوں نے اقوام متحدہ کے ملینئم ڈویلپمنٹ گولز (ایم ڈی جیز) کے تحت شدید غربت پر قابو پانے کے دشوار ہدف کو بروقت حاصل کر لیا تھا، آج بھی ملک بھر میں بہترین انفراسٹرکچر اور انڈسٹری کا جال بچھا ہوا ہے، پورٹ آف کولمبو کو خطے کی سب سے بڑی ٹرانس شپمنٹ ہب سمجھا جاتا ہے، عالمی اداروں کی رپورٹس میں سری لنکا کو سال 2019ء میں دنیا کا بہترین سیاحتی مقام قرار دیا گیا تھا، سری لنکن مصنوعات کے ٹاپ ایکسپورٹر ممالک میں امریکہ، برطانیہ، چین، بھارت اور متحدہ عرب امارات شامل تھے۔
سری لنکا کی معیشت کا دارومدار سیاحت پر ہے، تاہم 2020ء میں کورونا وباء پھوٹنے کے بعد سری لنکا کی سیاحت میں ستر فیصد سے زائد کمی ہو گئی اور پھر ہر سال سیاحت میں کمی آتی رہی، جنوری 2021ء میں جزوی طور پر سیاحت کی بحالی شروع ہوئی تو عالمی پروازوں کو کورونا کی منفی رپور ٹ سے مشروط کر دیا گیا، غیرملکی سیاحوں پر مقامی آبادی سے ملنے پر پابندی اور کچھ مخصوص مقامات تک رسائی کی اجازت دی گئی، یہ ناسازگار حالات سری لنکن معیشت کو مزید زبوں حال کر گئے جبکہ دوسری طرف غیرملکی قرضوں میں جکڑا سری لنکا قرضوں کی ادائیگی نہ کر سکا اور آخرکارحکومت کی جانب سے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔ تاہم سری لنکا کے عوام حالیہ بحران کی اصل وجہ حکمراں خاندان کی ناقص پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں، راجا پکسا خاندان کا ایک بھائی صدر ہے اور دوسرا وزیراعظم جبکہ خاندان کے افراد دیگر اہم حکومتی عہدوں پر فائز ہیں، وقتی مفادات کی خاطر دونوں بھائیوں نے عالمی اداروں سے بے تحاشہ قرضے لئے، سیاسی فائدے کیلئے ٹیکس میں بہت چھوٹ دی گئی اور درآمدات پر پابندی عائد کر دی گئی۔
حالیہ بحران کے تناظر میں پوری کابینہ استعفیٰ دے چکی ہے، پورا ملک پکسا خاندان کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا ہے ان کی سیاسی جماعت کو پارلیمان میں دوتہائی اکثریت حاصل ہے لیکن عوام ان کی حکومت سے کسی صورت راضی نظر نہیں آتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سری لنکا جیسے حالات کا شکار کوئی بھی ایسا ملک ہو سکتا ہے جہاں حکمراں غیرملکی قرضے کے بل پر ملک چلاتے ہوں اور قومی مفادات کی بجائے اپنے وقتی سیاسی فائدے کو مقدم رکھتے ہوں۔ ہمارے اقتصادی مسائل بھی سری لنکا سے مختلف نہیں، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور ملک غیرملکی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، ہر حکومت وقتی فائدے کیلئے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو مانتی ہے لیکن قرضے بڑھتے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت بھی ماضی کی حکومتوں سے مختلف ثابت نہ ہو سکی اور ساڑھے تین سال میں عوام کی زندگیوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہ آئی، ناتجربہ کار قیادت نے نہ صرف ملک کو مزید قرضوں میں ڈبو دیا بلکہ ملک کو غیریقینی صورتحال سے دوچار کر دیا۔
آج ہمارے ملک میں ایک پارلیمانی عمل کے تحت نئی حکومت قائم ہو چکی ہے جو ماضی میں تجربہ کار ٹیم ہونے کے باوجود پاکستان کوبحرانوں سے نہیں نکال سکی، میں سمجھتا ہوں کہ آج ہمارے حکمرانوں کو ماضی کی غلطیاں دہرانے کی بجائے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے، موجودہ قیادت سے لوگوں کو بہت سے توقعات وابستہ ہیں اگر موجودہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی تو پاکستان کا حال بھی خدانخواستہ سری لنکا جیسا ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی
بشکریہ روزنامہ جنگ
Visit Dar-us-Salam PublicationsFor Authentic Islamic books, Quran, Hadith, audio/mp3 CDs, DVDs, software, educational toys, clothes, gifts & more... all at low prices and great service.




0 Comments