( اٹھائیس جنوری کو اخبار نیویارک ٹائمز میں رونین برگمین اور مارک مذیتی کی ایک جامع تحقیقی رپورٹ شایع ہوئی۔ اس میں عصرِ حاضر کے سب سے طاقتور ہتھیار ’’ پیگاسس ‘‘ سسٹم کی ابتدا سے انتہا تک داستان بیان کی گئی۔ اگرچہ امریکی میڈیا بالعموم اور نیویارک ٹائمز بالخصوص اسرائیل نواز سمجھا جاتا ہے۔مگر اس رپورٹ میں بیان کردہ تفصیلات سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ ہمارا کل ہمارے آج سے زیادہ غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔ میں عموماً تحقیقی و اخباری رپورٹوں کے تفصیلی ترجمے سے کتراتا ہوں۔ مگر یہ رپورٹ ایسی ہے کہ آپ تک تمام اہم تفصیلات کے ساتھ ضرور پہنچنی چاہیے تاکہ آپ خود کسی نتیجے تک پہنچ سکیں ۔) جون دو ہزار انیس میں تین اسرائیلی کمپیوٹر انجینیر نیوجرسی میں ایف بی آئی کے زیرِ استعمال ایک عمارت میں داخل ہوئے۔ انھوں نے ایک بڑے کمرے میں درجنوں کمپیوٹر سرورز کو کھول کے سجایا تاکہ ایف بی آئی کو پیگاسس سسٹم کے آزمائشی کمالات دکھا سکیں۔
یعنی کسی بھی اینڈرائڈ یا آئی فون کے ڈیٹا تک مکمل رسائی کا کمال۔ چونکہ امریکی قوانین کے تحت بلا قانونی جواز و اجازت کسی شہری کے فون کی نگرانی نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا پیگاسس کا یہ ماڈل اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ امریکا میں رجسٹرڈ فون ہیک نہ کر سکے۔ اس خصوصی مظاہرے کے لیے مارکیٹ سے اسمارٹ فون خریدے گئے اور ان کے فرضی اکاؤنٹ بنا کر اصل غیرملکی نمبروں کی سمز لگا دی گئیں۔پیگاسس کے انجینرز نے فراہم کردہ فونز پر آزمائشی سائبر حملے کا مظاہرہ کیا۔ پیگاسس سسٹم کا سافٹ وئیر زیرو کلک کہلاتا ہے۔ یعنی اگر میں اپنے زیرِاستعمال فون پر موصول ہونے والے کسی مشکوک پیغام یا اجنبی لنک پر کلک نہ بھی کروں تو بھی پیگاسس میرے فون کے سسٹم میں گھس جائے گا۔ یعنی ہیکنگ کی کوئی واضح نشانی یا فٹ پرنٹ ثابت کرنا ایک عام صارف کے لیے محال ہے۔ ایف بی آئی کے اہلکاروں نے دیکھا کہ کچھ ہی منٹ بعد اسرائیلی انجینرز کے کمپیوٹرز کی اسکرین پر فراہم کردہ نمبروں کے ریکارڈ میں موجود ہر ای میل ، تصویر، ٹیکسٹ تھریڈ ، رابطہ نمبروں کی فہرست مع نام اور لوکیشن چمک رہی تھی۔ فون کا کیمرہ اور مائیکرو فون تک ہیک ہو چکا تھا۔ یعنی آپ کا فون آپ ہی کے خلاف چند منٹ میں جاسوسی کا موثر آلہ بن چکا تھا۔
اگرچہ متعلقہ امریکی اداروں کی فرمائش پر پیگاسس کے اس خاص ورژن کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ کوئی بھی امریکا دشمن پیگاسس کے ذریعے امریکی نمبروں پر حملہ آور نہ ہو سکے۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ خود امریکی ایجنسیاں بھی کسی مقامی فون کی اس سسٹم کے ذریعے نگرانی نہیں کر سکتی تھیں۔ چنانچہ اس قباحت کو دور کرنے کے لیے پیگاسس کی مالک اسرائیلی کمپنی این ایس او نے بطورِ خاص امریکی اداروں کے استعمال کے لیے پیگاسس کا فینٹم ورژن بنایا۔ اس کی مدد سے امریکی ایجنسیاں کسی بھی مشکوک مقامی نمبر تک رسائی کر سکتی تھیں۔ اور اس سسٹم کے استعمال کے لیے اے ٹی اینڈ ٹی، ویری زون ، ایپل یا گوگل سسٹم کا سہارا لینا ضروری نہیں تھا۔ مگر امریکی محکمہ انصاف اور ایجنسیوں کے مابین اگلے دو برس تک قانونی بحث ہوتی رہی کہ کیا اس سسٹم کا استعمال شہری آزادیوں کے قوانین سے متصادم ہے یا نہیں۔ اس دوران ایف بی آئی اور پیگاسس بنانے والی کمپنی این ایس او کے مابین آزمائشی کنٹریکٹ برقرار رہا اور ایف بی آئی نے کمپنی کو پانچ ملین ڈالر بطور فیس ادا کیے۔
کسی واضح قانونی نتیجے تک نہ پہنچنے کے سبب ایف بی آئی نے گزشتہ برس موسمِ گرما میں فیصلہ کیا کہ فی الحال پیگاسس سسٹم استعمال نہیں ہو سکتا۔ اسی دوران کچھ خبر رساں اداروں کے ایک کنسورشیم ’’ فاربڈن اسٹوریز‘‘ نے یہ انکشاف کر دیا کہ پیگاسس محض مجرموں کی نگرانی کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں سرکار مخالف سیاسی و سماجی و ابلاغی آوازوں کو دبانے کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔ یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ بحیرہِ احمر کے ساحل پر واقع چھوٹے سے ملک جبوتی کو پیگاسس سسٹم خریدنے کے لیے امریکی سی آئی اے نے مالی معاونت فراہم کی۔ جبوتی امریکا کی افریقہ عسکری کمان کا مرکز ہے۔ مگر اس انکشاف کی نہ سی آئی اے اور نہ ہی افریقہ کمان کی جانب سے تردید سامنے آ سکی۔ جبوتی کی حکومت بھی صاف مکر گئی کہ اس نے پیگاسس سسٹم خریدا ہے۔ ایک اعتبار سے جبوتی کا دعوی درست بھی ہے۔ کیونکہ پیگاسس سسٹم اس طرح سے فروخت نہیں ہوتا کہ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے۔ بلکہ یہ سالانہ یا طے شدہ فیس کے عوض اسرائیلی وزارتِ دفاع کے اجازت نامے کی بنیاد پر حکومتوں اور انٹیلی جینس ایجنسیوں کو مع تکنیکی دیکھ بھال و مہارت فراہم کیا جاتا ہے۔
اب سے چند ماہ قبل نومبر میں این ایس او کو بائیڈن انتظامیہ کے ہاتھوں ایک غیرمعمولی دھچکا لگا جب امریکی وزارتِ تجارت نے این ایس او کو ان کمپنیوں اور اداروں کی فہرست میں شامل کر دیا جن کی سرگرمیاں امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی مفادات کے منافی ہیں۔ جب کوئی ادارہ ، کمپنی یا فرد اس بلیک لسٹ کا حصہ بن جائے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ عناصر وسیع تر تباہی کے ہتھیار یا مہلک سائبر ہتھیاروں کی تیاری و تجارت و معاونت کے کسی نہ کسی مرحلے میں براہِ راست یا بلاواسطہ ملوث ہیں۔ چنانچہ کوئی امریکی فرد یا سرکاری و نجی ادارہ ان عناصر سے تجارتی لین دین نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اس فہرست میں آنے کے بعد این ایس او سے ڈیل کمپیوٹرز اور ایمیزون کلاؤڈ سرورز اور دیگر امریکی کمپنیوں کا اہم تعاون رک گیا۔ اس اچانک پابندی سے اسرائیلی وزارتِ دفاع کو بھی خاصی سبکی محسوس ہوئی کیونکہ این ایس او جیسے ادارے اس کے تاج کی شان سمجھے جاتے ہیں۔ امریکا نے این ایس او پر پابندی کا بم گرانے کی خبر جاری کرنے سے محض ایک گھنٹہ قبل اسرائیلی وزارتِ دفاع کو فیصلے سے آگاہ کیا۔
اسرائیل کے نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ یگال انانے اپنے ردِعمل میں کہا کہ ’’جنھوں نے بظاہر این ایس او کو نشانہ بنایا ہے انھوں نے دراصل ہمارے نیلے سفید پرچم پر تیر چلایا ہے‘‘۔ اسرائیل کو ’’امریکی منافقت ‘‘ پر زیادہ طیش تھا جس کے سیکیورٹی اداروں نے نہ صرف سالہا سال پیگاسس سسٹم کی آزمائش کی بلکہ یہ سسٹم حاصل کرنے میں اپنے ایک اتحادی جبوتی کی بھی مدد کی اور اب وہ اچانک نہا دھو کر صاف ستھرے ہونے کی اداکاری پر اتر آئے تھے۔ مگر اس امریکی اقدام نے اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کو بھی این ایس او کی سرگرمیوں کو باقاعدگی کے دائرے میں لا کے اسرائیلی خارجہ پالیسی کے مقاصد کے حصول کا ایک موثر ذریعہ بنانے کا سنہری موقع فراہم کر دیا۔
اسرائیل نے روایتی ہتھیار سازی کی صنعت اور پیگاسس جیسے مہلک سائبر سافٹ ویئرز سسٹم کو کس طرح خارجہ پالیسی کے مقاصد کے جارحانہ حصول کا ذریعہ بنایا۔ اس سلسلے میں اس نے بنیادی اسباق اپنے گرو امریکا سے ہی سیکھے۔ دو ہزار دس میں منکشف ہونے والی وکی لیکس کے ہزاروں پیغامات پڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ہر امریکی سفارت خانے میں متعین فوجی اتاشیوں کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے غیر رسمی ایجنٹ بن کر میزبان ملک کو بقول ڈونلڈ ٹرمپ ’’ شاندار ہتھیار اور دفاعی آلات ’’خریدنے پر آمادہ کرتے رہیں۔ چنانچہ جب امریکی وزرائے دفاع و خارجہ یا کلیدی حکام تیسری دنیا کے ممالک کا دورہ کرتے ہیں تو اکثر پیشگی سفارتی دباؤ کی شکار میزبان حکومت امریکی ہتھیاروں اور آلات کی فرمائش بھی سامنے رکھ دیتی ہے اور مہمان امریکی اہل کار میزبان کی خوشدلی کے لیے یہ فرمائش لاک ہیڈ مارٹن ، ریتھیون ، میکڈونلڈ ڈگلس یا بوئنگ جیسے اداروں تک پہنچانے کا وعدہ کر لیتے ہیں۔
بظاہر یہ سب نجی ہتھیار ساز کمپنیاں ہیں مگر ان کا اثر ور سوخ اور روزی روٹی بنا کچھ کہے امریکی خارجہ و عسکری پالیسی سازوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کا یوں بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کہ ان کمپنیوں کو اپنے بورڈ روم میں انھی ریٹائرڈ فیصلہ سازوں کو آگے رکھ کے دھندہ چلانا ہے۔ اگر ایٹم بم کے دور کے بعد کوئی ہتھیار بین الاقوامی تعلقات کی اونچ نیچ پر اثر انداز ہو رہا ہے تو وہ سائبر ہتھیار و آلات ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سائبر ٹیکنالوجی جوہری ہتھیاروں سے زیادہ عدم استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک تو یہ مقابلتاً سستی ہے، اسے آسانی سے آگے پیچھے منتقل کیا جا سکتا ہے اور اس کے ذریعے ہونے والے سائبر حملوں کا جواب توپوں، ٹینکوں، طیاروں سے دینا کوئی ملک پسند نہیں کرتا۔ اس کا پھیلاؤ بھی ایٹمی ہتھیاروں کی نسبت زیادہ محفوظ اور رازدارانہ طریقوں سے ممکن ہے۔
اسرائیل جیسے ممالک کو اپنا وجود مستحکم رکھنے کے لیے ہتھیاروں کی صنعت و تجارت سے جنم لینے والے اثر و رسوخ کی اشد ضرورت ہے۔ یہ صنعت نہ صرف ایک بڑا روزگاری وسیلہ ہے بلکہ اس سے جو منافع حاصل ہوتا ہے وہ مزید تحقیق ، جدت کاری اور دوسروں سے ایک قدم آگے رہنے میں کام آتا ہے۔ اس تناظر میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا میں غیر سگالی پیدا کرنے اور غیر رسمی اسرائیل دوست اتحاد کے تانے بانے بننے کی ذمے داری خفیہ ایجنسی موساد کے پاس ہے۔سن پچاس کی دہائی میں جب اسرائیل نسبتاً ایک کمزور ریاست تھی اور اس کی کسی بھی ہمسائے سے نہیں بنتی تھی۔ تب پہلے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریان نے ’’ نظریہ مضافات ’’ پیش کیا۔ یعنی دشمن عرب ریاستوں کے دائرے کے پیچھے دوست ریاستوں کا دائرہ بنانے کی حکمتِ عملی۔ ان ممالک کو رام کرنے کے لیے غیر عسکری شعبوں کی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کی فراہمی اور اسلحہ فروخت کرنے کی اسٹرٹیجی اپنائی گئی۔
انیس سو اسی تک اسلحہ سازی کی صنعت اتنی پھیل گئی کہ ہر دس میں سے ایک اسرائیلی ملازمت براہ راست یا بلاواسطہ اس شعبے سے منسلک ہو گئی۔ جن ریاستوں کو یہ اسلحہ فراہم کیا گیا ان کے دلوں میں رفتہ رفتہ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ایوانوں میں اسرائیل کے لیے اعلانیہ و پوشیدہ نرم گوشہ بڑھتا چلا گیا۔ان ممالک نے خصوصی مشنز اور آپریشنز کے لیے اسرائیلی فوج اور موساد کو سہولتیں بھی فراہم کرنا شروع کیں۔ نئی صدی میں روایتی اسلحے کی صنعت کے ساتھ ساتھ سائبر اسلحے کی صنعت کی بھی حوصلہ افزائی شروع ہوئی۔ نجی شعبے میں نت نئے آئیڈیاز اور اسٹارٹ اپس کے لیے رقومات فراہم کی گئیں۔ اسلحہ ساز کمپنیوں کی طرح سائبر ہتھیار بنانے والی کمپنیاں بھی بنا سرکاری لائسنس تجارت نہیں کر سکتی تھیں۔ چنانچہ ریاست کو اپنی خارجہ پالیسی کے لیے ایک نیا موثر ہتھیار مل گیا۔ ان نئی سائبر کمپنیوں میں سب سے نمایاں این ایس او ہے۔
سن دو ہزار چار پانچ میں این ایس او کی ابتدا تل ابیب کے مضافات میں قائم ایک زرعی کوآپریٹو سوسائٹی بنائی زیون کے ایک پولٹری فارم میں ہوئی۔ اس کے مالک نے مرغبانی میں خسارے کے بعد یہ عمارت ان نئے اسٹارٹ اپس کو کرائے پر دینا شروع کی جن کے پاس بیٹھنے کو مناسب جگہ نہیں تھی۔ انھی میں ایک نوجوان کمپیوٹر پروگرامر شالیو ہولیو بھی تھا۔ شالیو اور اس کے ساتھی اومری لیوی نے ایک وڈیو مارکیٹنگ پروڈکٹ بنائی۔ ابتدا میں یہ مقبول بھی ہوئی مگر جلد ہی دو ہزار آٹھ کی عالمی اقتصادی کساد بازاری کے نتیجے میں بیٹھ گئی۔ اس کے بعد دونوں نے کمیونی ٹیک کے نام سے ایک اور کمپنی بنائی اور ایک پروڈکٹ تیار کی جس کے ذریعے کسی شخص کی اجازت کے ساتھ اس کے زیرِ استعمال ڈیجیٹل آلات کا کنٹرول سنبھال کر اس کی خرابی دور کی جا سکتی تھی۔ بعد میں شالیو ہولیو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہماری یہ پروڈکٹ بہت زیادہ مقبول نہیں ہوئی مگر پھر ایک یورپی انٹیلی جینس ایجنسی نے ہم سے کسی بچولیے کے ذریعے رابطہ کیا۔ تب ہمیں احساس ہوا کہ ہم اپنی پروڈکٹ کے ذریعے نہ صرف عام شہریوں کو ڈیجیٹل خدمات فراہم کر سکتے ہیں بلکہ اسے ذرا بہتر بنا کر ایک اور بڑے مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں۔
اور مسئلہ یہ تھا کہ برس ہا برس سے انٹیلی جینس ایجنسیاں مطلوبہ افراد کی وائر ٹیپنگ کرتی آ رہی تھیں مگر جب سے وہ آلات مقبولِ عام ہونے شروع ہوئے جن میں انکرپشن کے ذریعے آواز اور حرف کو کسی تیسرے شخص کی دست برد سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ تب سے انٹیلی جینس ایجنسیوں کے مسائل اور پریشانیاں بڑھ گئیں، اگر کسی طرح انکرپشن کا محفوظ توڑ نکل آئے تو مزہ آجائے۔ شالیو اور لیوی کو اب اپنے لیے ایک ایسے شراکت دار کی ضرورت پڑی جس کے رابطے قدرے بہتر ہوں اور جو تھوڑے بہت سرمائے کا انتظام بھی کر سکے۔ چنانچہ کہانی میں ایک تیسرا کردار نیو کارمی داخل ہوتا ہے۔ جو ملٹری انٹیلی جینس ( امان ) اور موساد میں کام کر چکا تھا۔ چنانچہ نیو ، شالیو اور اومری نے اپنے نام کے پہلے ایک ایک حرف کو جوڑ کر این ایس او کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اور پھر پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا۔ جیسے جیسے سرمایہ آتا گیا کاروباری منصوبے کی ضروریات کے مطابق ریکروٹمنٹ شروع ہوتی گئی۔ اس وقت این ایس او کے سات سو کے لگ بھگ ملازمین ہیں۔ اس کا ہیڈ کوارٹر تل ابیب کے خوشحال مضافاتی علاقے ہرزلیہ میں ہے۔
یہاں این ایس او کی سائبر لیبارٹریوں میں ماہر نوجوان ایپل اور انڈورائڈ کی مصنوعات بالخصوص اسمارٹ فونز میں نت نئی کمزوریاں دریافت کرنے اور ان کمپنیوں کی جانب سے مسلسل سافٹ ویئر اپ گریڈیشن کے مسلسل توڑ پر معمور ہیں۔ این ایس او کی اتنی بڑی ریسرچ ٹیم کا لگ بھگ ہر رکن اسرائیلی ملٹری انٹیلی جینس ڈاریکٹوریٹ ( امان ) میں وقت گذار چکا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق امان کے ایلیٹ انٹیلی جینس یونٹ بیاسی سو سے ہے۔ جہاں انتہائی ایڈوانس سائبر پروگرامنگ کے کورسز میں کامیاب ہونے والوں کو ہی این ایس او بھیجا جاتا ہے۔ این ایس او کے ہیڈکوارٹر میں کام کبھی بند نہیں ہوتا۔ ایک شفٹ کے بعد دوسری شفٹ بدلتی رہتی ہے۔ چنانچہ جب کوئی سیل کمپنی اپنی پروڈکٹ کے تحفظ کے لیے ایک دروازہ بند کرتی ہے۔ این ایس او کے ماہرین کم سے کم وقت میں اس کا کوئی نہ کوئی توڑ تلاش کر لیتے ہیں۔ یوں وہ پیگاسس ڈیوائس وجود میں آیا جس کی مارکیٹنگ دو ہزار گیارہ سے ہو رہی ہے اور اس کے ہوتے اب کوئی راز راز نہ رہا۔
سن دو ہزار گیارہ میں بالاخر پیگاسس کا مکمل کمرشل ورژن تیار ہو گیا۔ این ایس او کا خیال تھا کہ جیسے ہی یہ خبر پھیلے گی دنیا بھر کی انٹیلی جینس ایجنسیوں بالخصوص دھشت گردی کے خلاف جنگ میں جتی ہوئی مغربی ایجنسیوں کی قطار لگ جائے گی۔ مگر حیرت انگیز طور پر عالمی سراغرساں کمیونٹی کی جانب سے کسی خاص جوش و خروش کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ چونکہ این ایس او ایسے ماہرین سے بھری پڑی تھی جن کا اپنا پیشہ ورانہ پس منظر بھی جاسوس سرگرمیوں سے جڑا تھا لہٰذا یورپی ادارے پیگاسس کے حصول میں دلچسپی ظاہر کرنے میں خاصے محتاط تھے۔ انھیں خدشہ تھا کہ پیگاسس کہیں کاٹھی کا وہ گھوڑا ( ٹروجن ہارس) ثابت نہ ہو جسے ہم خرید کے گھر لے تو آئیں مگر جتنا فائدہ ہمیں ہو اس سے کہیں زیادہ اسرائیلی ہماری کلاسیفائیڈ معلومات اور برسوں کی محنت اڑا لے جائیں۔ چنانچہ اس خراب شہرت کے تدارک کے لیے این ایس او کے بانی ارکان سر جوڑ کے بیٹھے۔ سب سے پہلے تو انھوں نے کمپنی کی ایک باعزت ساکھ بنانے کے لیے میجر جنرل ریٹائرڈ ایوگیدار بینگال کو کمپنی کا چیئرمین مقرر کیا۔ جنرل بینگال نہ صرف نازی کیمپوں سے زندہ بچ نکل آنے والوں میں سے ایک تھے بلکہ اپنی پیشہ ورانہ عسکری زندگی میں اچھی شہرت کے حامل رہے۔
کمپنی نے ممکنہ صارفین کا اعتماد جیتنے کے لیے ایک چار نکاتی منشور جاری کیا۔ اول یہ کہ این ایس او فروخت کردہ سسٹم کو خود آپریٹ نہیں کرے گی بلکہ جہاں جہاں خریدار کو تکنیکی مدد درکار ہے خود کو وہیں تک محدود رکھے گی۔ دوم، یہ کہ سسٹم کسی فرد یا کمپنی کو نہیں بلکہ زمہ دار حکومتوں کو فروخت کیا جائے گا۔ سوم، یہ کہ ہر ہما شما ملک کو یہ سسٹم فراہم نہیں کیا جائے گا۔ چہارم، یہ کہ ہر سودا اسرائیلی وزارتِ دفاع کے برآمدی لائسنس سے مشروط ہو گا۔ جنرل بینگال کی بطور چیئرمین تقرری کا مطلب ہی یہ تھا کہ این ایس او ایک آزاد تجارتی تشخص برقرار رکھنے کے بجائے اسرائیل کی سرکاری پالیسیوں کو اپنی مارکیٹنگ حکمتِ عملی میں مدِنظر رکھے گی۔ پیگاسس کے لیے پہلا بڑا آرڈر میکسیکو سے موصول ہوا۔ جہاں حکومت ڈرگ مافیا سے ایک طویل جنگ لڑ رہی تھی اور یہ مافیا رابطہ کاری کے لیے بلیک بیری میسیجنگ سروس استعمال کرتی تھی۔ اس کے اندر گھسنا کسی بھی انٹیلی جینس ایجنسی کے لیے محال تھا۔ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے اس بابت میکسیکو حکومت کو محدود مگر مشروط معاونت کی پیش کش کی۔
جب این ایس او کو بھنک پڑی تو ہولیو اور جنرل بینگال نے میکسیکو کے صدر فلیپے کالیدورون سے ملاقات کے لیے وقت مانگ لیا۔ انھوں نے اپنی پریزنٹیشن میں صدر کو یقین دلایا کہ محدود و مشروط امریکی معاونت کے برعکس پیگاسس وہ سب کر سکتا ہے جو حکومتِ میکسیکو چاہتی ہے اور اس کا مکمل کنٹرول بھی حکومت کے ہی ہاتھوں میں رہے گا۔ صدرِ ذی وقار کی باچھیں کھل گئیں۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع نے بھی سسٹم کی برآمد کے لیے فوراً این او سی جاری کر دیا۔ میکسیکن حکام کے سامنے پیگاسس کا آزمائشی مظاہرہ کیا گیا اور بدنام ِ زمانہ کوکین کنگ گزمان سنولا کے ایک قریبی ساتھی کا ناقابلِ تسخیر بلیک بیری نمبر ہیک کر کے سارا کچا چھٹا میکسیکو کے عہدیداروں کے سامنے رکھ دیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ مافیا کے زیرِاستعمال دیگر بلیک بیریز کی لوکیشنز بھی سامنے آ گئیں۔ یعنی سب سنا جا سکتا تھا، پڑھا جا سکتا تھا ، دیکھا جا سکتا تھا۔ پہلی بار میکسیکنز کو لگا کہ شاید وہ یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔ اسرائیل کو اس کے عوض لاطینی امریکا کے ایک اہم ملک کی خیرسگالی ہاتھ آ گئی۔
میکسیکو ہمیشہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت کرتا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ میکسیکو نے رائے شماری سے غیر حاضر رہنے کا وتیرہ اپنایا اور پھر حق میں ووٹ دینا شروع کر دیا۔ دو ہزار سولہ میں میکسیکو کے نئے صدر اینریک نیٹو نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ کسی بھی اعلیٰ عہدیدار کا سولہ برس بعد یہ پہلا دورہ تھا۔اگلے برس پہلی بار کسی اسرائیلی وزیرِاعظم ( نیتن یاہو ) نے میکسیکو کا دورہ کیا۔ دو ہزار سترہ میں ایک اینٹی ہیکنگ سرکردہ کینیڈین تنظیم سٹیزن لیب نے انکشاف کیا کہ میکسیکو کی حکومت انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور حزبِ اختلاف کو بھی پیگاسس کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اگوالا کے علاقے میں دو ہزار چودہ میں تینتالیس طلبا کے قتلِ عام کی تحقیق میں ورثا کی معاونت کرنے والے وکلا کے خلاف بھی پیگاسس استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق دبائے جا سکیں۔
پیگاسس کے ناجائز استعمال کا شبہ میکسیکو کے مرکزی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ توماس زیریون دو لوسیو پر عائد کیا گیا۔
دو ہزار انیس میں جب حکومت بدلی تو لوسیو صاحب احتساب کے خوف سے براستہ کینیڈا سیاحت کے ویزے پر اسرائیل پہنچ گئے۔ حالانکہ حکومت میکسیکو نے لوسیو کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا مگر اسرائیل نے یہ درخواست اب تک نظر انداز کر رکھی ہے۔ وکی لیکس کے مطابق دو ہزار نو میں پاناما کے نومنتخب صدر ریکارڈو مارٹینیلی نے سیاسی کرپشن ختم کرنے کے نام پر امریکا سے نگرانی کے جدید آلات فراہم کرنے کی درخواست کی تاکہ ’’ ملک دشمن سیاستدانوں ‘‘کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھی جا سکے۔ امریکیوں نے صاف انکار کر دیا۔ مارٹنیلی اس بات کو بظاہر پی گئے مگر اس کے بعد غزہ میں دو ہزار آٹھ کے اسرائیلی حملوں کو جنگی جرائم کی کیٹگری میں رکھنے نہ رکھنے سے متعلق جسٹس گولڈ اسٹون کمیشن کی رپورٹ کی تائید کے لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک سو اڑتیس اسرائیل مخالف ووٹوں کے مقابلے میں اسرائیل کے حق میں جو چھ ووٹ پڑے ان میں سے ایک پاناما کا تھا۔
اسرائیل نے پاناما کے صدر کو دورے کی دعوت دی جو کہ فوراً قبول کر لی اور یروشلم کے تحفظ کے لیے صدر شمعون پیریز کو صدر مارٹینلی نے پاناما کی مکمل حمائیت کا یقین دلایا اور پھر وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے ملاقات میں اصل مدعا بیان کیا کہ انھیں مخالفین کی سرکوبی کے لیے جاسوسی آلات اور ملکی دفاع کے لیے جدید اسلحہ درکار ہیں۔ مارٹینلی نے کہا کہ کچھ ایسا دے دیجیے کہ میں بلیک بیری مسیجنگ سروس کا توڑ کر لوں۔ بلیک بیری پورے وسطی امریکا میں اس وقت اشرافیہ کے لیے اسٹیٹس سمبل جانا جاتا تھا۔ اسرائیل نے فوری طورپر کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی۔ لیکن دو ہزار بارہ میں نیتن یاہو نے صدر مارٹینلی کو پیگاسس فراہم کرنے کی پیش کش کی۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں یہاں تو چار چار ایک ساتھ لگ گئیں۔ چنانچہ پیگاسس ملتے ہیں اندھا دھند نگرانی شروع ہو گئی۔حزبِ اختلاف، عدلیہ، مزدور رہنما، کاروباری رقیب کوئی نہ بچا۔ حتی کہ مارٹینلی نے اپنی داشتا کے فون پر بھی پیگاسس لگا دیا۔
پاناما کے نائب صدر ہوان کارلوس ولیرا نے جب دو ہزار چودہ میں مارٹینلی کے ملک سے فرار کے بعد اقتدار سنبھالا تو انھوں نے بتایا کہ وہ بھی پیگاسس کے زخم خوردہ ہیں۔ چنانچہ نئے صدر نے پیگاسس سسٹم کو پورا ہی لپیٹ دیا۔ مگر پیگاسس کے کوئی ایک دو کلائنٹ تھوڑا ہی ہیں۔ دو ہزار گیارہ میں گاہکوں کی خصوصی ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پیگاسس کے کمرشل ورژن متعارف کرانے کے بعد سے این ایس او نے منافع کمانا شروع کیا۔ پہلے برس پندرہ ملین ڈالر، اگلے برس تیس، اس سے اگلے برس ساٹھ ملین ڈالر۔ یہ منظر دیکھ کر سرمایہ کار بھی این ایس او کی جانب راغب ہونے لگے۔ دو ہزار چودہ میں ایک امریکی سرمایہ کار کمپنی فرانسسکو پارٹنرز نے ایک سو تیس ملین ڈالر کے عوض این ایس او کے ستر فیصد شئیرز خرید لیے۔ اس کے بعد اسرائیلی ملٹری انٹیلی جینس کے ایک ریٹائرڈ اہل کار کی قائم کردہ سائبر ہتھیاروں کی کمپنی سرکلز کا بھی این ایس او سے اشتراک ہو گیا۔ سرکلز اپنے کلائنٹسں کو ایک اور سسٹم فراہم کرتی تھی جس کی مدد سے دنیا کے کسی بھی کونے میں پڑے موبائیل فون کی لوکیشن کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے اسرائیلی انٹیلی جینس نے یہ صلاحیت دس برس پہلے ہی حاصل کر لی تھی۔
جب اتنی باصلاحیت کمپنیاں این ایس او میں مدغم ہو گئیں تو اس کی مصنوعات کی ورائٹی اور کلائنٹس کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کی کم ازکم پچیس ریاستوں کی ایجنسیاں این ایس او کے آلات عسکری و غیر عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ نومبر دو ہزار سولہ میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے گھر پر پولینڈ کے وزیرِ اعظم بیاتا زدلو اور وزیرِ خارجہ ویڑوکوسکی رات کے کھانے پر مدعو تھے۔ اس دورے میں این ایس او نے پولینڈ کے انسدادِ رشوت ستانی کے ادارے کو پیگاسس سسٹم کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی۔ سٹیزن لیب کا کہنا ہے کہ پولش حزبِ اختلاف کے کم ازکم تین ارکان کے فونز کو پیگاسس سے نشانہ بنایا گیا۔ پولینڈ کے نئے وزیرِ اعظم میتیوز مورویکی نے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں نیتن یاہو کی موجودگی میں کہا کہ دوسری عالمی جنگ میں یہودیوں کو جن مصائب سے گزرنا پڑا ان کی ذمے داری اپنی کمیونٹی کو اکسانے والے کچھ یہودی رہنماؤں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ گمان تھا کہ اس تبصرے کو یہود دشمنی قرار دیتے ہوئے اسرائیلی آسمان سر پے اٹھا لیں گے۔ مگر حیرت انگیز طور پر نیتن یاہو نے نہ تو کوئی ردِعمل دکھایا اور نہ ہی پیگاسس کی سہولت معطل کرنے جیسا کوئی اقدام کیا۔
جولائی دو ہزار سترہ میں پہلی بار کسی بھارتی وزیرِ اعظم ( نریندر مودی ) نے اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا۔ نیتن یاہو اور مودی نے تل ابیب کے ساحل پر ننگے پاؤں چہل قدمی کی۔ اس کے بعد سے بھارت نے نہ صرف فلسطینیوں کی غیر مشروط حمایت کی عشروں پرانی پالیسی سے ہاتھ اٹھا لیا بلکہ اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیوں سے میزائیل سسٹم اور این ایس او سے پیگاسس کی خریداری کے لیے مجموعی طور پر دو ارب ڈالر کے تجارتی سمجھوتے بھی ہوئے۔ چند ماہ بعد نیتن یاہو نے دلی کا جوابی دورہ کیا۔ جون دو ہزار انیس میں بھارت نے پہلی بار اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل میں انسانی حقوق کی فلسطینی تنطیم کو مبصر کا درجہ دینے کی مخالفت کی۔ بھارت میں پیگاسس سسٹم حزبِ اختلاف، صحافیوں اور چند کابینہ وزیروں کی جاسوسی کے لیے استعمال ہونے کے الزامات چند ماہ قبل سامنے آنے شروع ہوئے۔ ہنگری میں وزیرِ اعظم وکٹر اربون کے آمرانہ طرزِ حکومت کے باوجود انھیں پیگاسس سسٹم فروخت کیا گیا۔ حکومت نے اس سسٹم کو اپنے سیاسی مخالفین، صحافیوں اور کاروباری خاندانوں کے خلاف جی کھول کے استعمال کیا۔
اس کے بعد سے غیر جانبدار ہنگری یورپی یونین میں اسرائیل کا پرزور وکیل بن گیا۔
عرب ریاستوں میں پیگاسس سسٹم سب سے پہلے متحدہ عرب امارات کو فراہم کیا گیا۔ دو ہزار دس میں جب موساد نے دبئی کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر حماس کے ایک رہنما کو زہر دے کر ہلاک کیا۔ اس کے بعد امارات کے صدر محمد بن زید نے جوابی کارروائی میں اسرائیل سے ہر طرح کا پوشیدہ تعاون ختم کر دیا۔ دو ہزار تیرہ میں اسرائیل نے کدورت مٹانے کے لیے پیگاسس سسٹم فراہم کرنے کی پیش کش کی۔ پھر سٹیزن لیب کے ذرایع نے خبر دی کہ اماراتی اسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے ناقد صحافی احمد منصور کے آئی فون کو ہیک کرنے کے لیے پیگاسس استعمال کیا گیا۔ اس واردات کے سبب آئی فون بنانے والی ایپل کمپنی کا یہ دعوی خاک میں مل گیا کہ اس کے فون ہیکنگ سے محفوظ ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ میں احمد منصور کو سوشل میڈیا پر متنازعہ مواد پوسٹ کرنے کے جرم میں دس برس قید کی سزا سنا دی گئی۔
دو ہزار سترہ میں اسرائیلی حکومت نے سعودی سیکیورٹی ایجنسی کو پیگاسس کی فراہمی کی اجازت دے دی اور پچپن ملین ڈالر کے کنٹریکٹ پر دستخط ہو گئے۔ جب دو اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو استنبول میں سرکردہ سعودی صحافی جمال خشوگی کے اغوا اور قتل کے بعد دنیا بھر میں ہا ہا کار مچی تو ایک بار پھر این ایس او اور پیگاسس کا استعمال زیرِ بحث آیا۔ حسب ِ توقع این ایس او نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ قتل سے پہلے جمال کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ان کے فون کو پیگاسس کے ذریعے ہیک کیا گیا۔ مگر این ایس او کے سودوں پر نگاہ رکھنے والی سابق امریکی سفارت کاروں پر مشتمل ’’اخلاقیات کمیٹی ‘‘ نے این ایس او سے مطالبہ کیا کہ سعودی سسٹم بند کر دیا جائے۔ پیگاسس نے سسٹم معطل کر دیا۔ لیکن چند ماہ بعد وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی مداخلت سے یہ سسٹم بحال ہو گیا۔ کیونکہ اسرائیل خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے خلاف اسٹرٹیجک تعاون کے ایک باضابطہ سمجھوتے کے لیے بھرپور کوششں کر رہا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے داماد ڈیوڈ کشنر کی مدد سے یہ مقصد حاصل ہو گیا۔بحرین اور امارات نے اسرائیل کو سفارتی طور پر تسلیم کر لیا اور پھر تینوں ممالک کے مابین وائٹ ہاؤس کی سرپرستی میں ’’ ابراہیمی سمجھوتہ‘‘ سامنے آیا۔ سعودی عرب نے اس سمجھوتے کی خاموش حمایت کی۔ اور خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان روابط کی آسانی کے لیے اپنی فضائی حدود اسرائیلی طیاروں کی آمد و رفت کے لیے کھول دی۔ ابراہیمی سمجھوتے کے عوض امارات کی فضائیہ کو جدید ترین امریکی ایف تھرٹی فائیو طیارے خریدنے کا موقع ملا جب کہ اسرائیل نے امارات کے بعد بحرین کو بھی ’’ تخریب کاروں اور دہشت گردوں ‘‘ پر نظر رکھنے کے لیے پیگاسس فراہم کر دیا۔ ابراہیمی سمجھوتے کے کچھ عرصے بعد سعودی عرب کو فراہم کیے جانے والے سسٹم کے لائسنس کی مدت ختم ہو گئی اور اسرائیلی وزارتِ دفاع نے لائسنس کی تجدید سے انکار کر دیا۔ مگر ولی عہد محمد بن سلمان کی نیتن یاہو کو ایک مبینہ کال کے بعد نیتن یاہو نے وزارِت دفاع کو لائسنس کی ہنگامی تجدید کی احکامات دیے اور این ایس او نے راتوں رات یہ سسٹم بحال کر دیا۔
گزشتہ نومبر میں امریکی وزارتِ تجارت کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے سبب این ایس او اور امریکی سائبر کمپنیوں کے مابین تعاون سکڑ گیا۔ چنانچہ فی الحال این ایس او کو اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور آرڈرز پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ فیس بک نے بھی ایک امریکی عدالت میں اپنے سیکڑوں کلائنٹس کے وٹس ایپ رازداری نظام کو توڑنے کی کوشش میں پیگاسس کے استعمال پر بھاری ہرجانے کا مقدمہ کر رکھا ہے۔ چنانچہ امریکی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ این ایس او کو کوئی امریکی سرمایہ کار خرید لے تاکہ ایف بی آئی اور سی آئی اے جیسے اداروں کی راہ میں پیگاسس سسٹم کے استعمال میں جو قانونی رکاوٹیں حائل ہیں وہ دور ہو جائیں۔ مگر ایسی کسی بھی کوشش کی کڑی مزاحمت اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یقینی ہے۔ سائبر ہتھیار سازی اور جاسوسی آلات کی تیاری کے میدان میں این ایس او کو مختصر وقت کے لیے جو بالا دستی ملی۔ کئی امریکی کمپنیاں اس وقت پیگاسس سے بھی زیادہ ایڈوانس آلات تیار کرنے کے لیے مقابلے کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی چینی یا روسی کمپنی اس میدان میں بھی بازی مار لے۔ ( بشکریہ نیویارک ٹائمز )۔
وسعت اللہ خان
بشکریہ ایکسپریس نیوز
For Authentic Islamic books, Quran, Hadith, audio/mp3 CDs, DVDs, software, educational toys, clothes, gifts & more... all at low prices and great service.


0 Comments