نو مارچ کو بھارت کی جانب سے ’’مبینہ غلطی ‘‘ کی وجہ سے ایک میزائل داغا گیا، جو پاکستانی علاقے خانیوال (میاں چنوں) کے قریب ایک گاؤں کے کولڈ اسٹوریج پر آگرا، جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ 10 مارچ کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی اور کہا گیا کہ پاکستان میں بھارتی حدود سے ایک اُڑتی ہوئی چیز پاکستانی حدود میں داخل ہوئی، جو میاں چنوں کے مقام پر گری۔ یہ ایک سوپر سونک پروجیکٹ تھا جو ممکنہ طور پر میزائل تھا اور غیر مسلح (بغیر بارود کے میزائل ) تھا، یہ آبجیکٹ بھارت میں سو کلو میٹر اندر تھا، تبھی ہم نے اسے نوٹس کر لیا۔ اس کے بعد 11 مارچ کو بھارت کی طرف سے تسلیم کیا گیا کہ ’’غلطی‘‘ ہو گئی! معمول کی دیکھ بھال کے دوران میزائل فنی خرابی کی وجہ سے غلطی سے داغا گیا جس کی اعلیٰ سطح عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ بھارت وہ ملک ہے جس کی کبھی سب میرین پاکستان میں ’’غلطی‘‘ سے داخل ہو جاتی ہے، کبھی طیارہ غلطی سے پاکستانی حدود میں آجاتا ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب میزائل بھی غلطی سے سرحد پار کرنے لگے ہیں۔
دنیا جانتی ہے کہ کسی بھی ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والی کوئی بھی شے حملہ ہی تصور کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں دفاعی قواعد و ضوابط تو یہی کہتے ہیں کہ میزائل آنے کی صورت میں آپ بھی جوابی حملہ کریں لیکن پاکستان کی جانب سے ایسا نہ کرنا سمجھداری کے ساتھ ساتھ ایک سلجھا ہوا فیصلہ بھی ہے اور اس حوالے سے پاکستانی ماہرین ہی نہیں بلکہ انڈین ماہرین بھی پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں، لیکن اس کے برعکس سوال یہ ہے کہ اگر یہ میزائل کسی بڑے شہر کی طرف جاتا تو کیا ہوتا؟ اور انڈیا کو یہ وضاحت بھی دینا ہو گی کہ یہ میزائل کس راستے پر تھا اور کیسے اچانک اس کا راستہ تبدیل ہوا اور یہ پاکستان میں داخل ہو گیا؟ کیا اس میزائل میں خود کو تباہ کرنے کا میکینزم موجود تھا؟ کیا معمول کی مشقوں اور دیکھ بھال کے دوران بھی انڈیا میں میزائل داغے جانے کے لیے ہر دم تیار رکھے جاتے ہیں؟ انڈیا نے فوری طور پر پاکستان کو آگاہ کیوں نہیں کیا کہ حادثاتی طور پر میزائل فائر ہوا ہے اور اس بات کا انتظار کیوں کیا گیا کہ پاکستان کی جانب سے اس واقعے کا اعلان کیا جائے گا اور وضاحت مانگی جائے گی؟
اتنی بڑی نااہلی کو دیکھتے ہوئے انڈیا کو یہ وضاحت کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا اس کے میزائل واقعی اس کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہی ہیں یا پھر کسی اور کے؟ موجود اطلاعات کے مطابق تو اس کا اختیار صرف اور صرف وزیر اعظم ، صدر یا فوج کے سربراہ کے پاس ہوتا ہے، اگر ایٹمی ہتھیاروں کے پروٹوکول کی بات کی جائے تو امریکا میں ان میزائلوں کو چلانے والوں کو ’’منٹ مین‘‘ کہا جاتا ہے، منٹ مین اس لیے کہ یہ لوگ حکم ملنے کے بعد ایک منٹ میں ایٹمی میزائل داغ سکتے ہیں۔ یہ لوگ ہر وقت کمپیوٹر اسکرین پر ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے رہتے ہیں کہ کسی بھی وقت میزائل داغنے کا حکم آسکتا ہے۔ امریکی نظام میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حکم صرف ملک کا صدر دے سکتا ہے۔ البتہ میزائل داغنے کا عمل پینٹاگون ’’وار روم‘‘ سے شروع ہوتا ہے ۔ اسی لیے امریکی صدر کے ساتھ ہر وقت مخصوص لوگ ہوتے ہیں، ان کے پاس سیاہ چمڑے کا ایک بریف کیس ہوتا ہے جسے’’ نیوکلیئر فٹ بال‘‘ کہتے ہیں۔ روس اور برطانیہ کا نظام بھی کچھ اس طرح کا ہی ہے۔
بہرحال یہ چیزیں بتانے کا مقصد کہ پاکستان اور انڈیا کا میزائل نظام بھی یقینا اتنا ہی محفوظ ہو گا جتنا امریکا یا روس کا ہے تو پھر کیسے ممکن ہوا کہ بھارتی میزائل لانچ ہوا، اُسے چلایا گیا اور پھر یہ پاکستان کے اندر 2، 3 سو کلومیٹر تک آبھی گیا۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ کیسے بھارت اتنی بڑی غلطی کر سکتا ہے۔ میری ایک پاکستانی ذمے دار آفیسر سے بھی بات ہوئی ہے وہ بھی اسی تشویش میں مبتلا ہیں کہ یہ بھارت کی اتنی بڑی غلطی ہے کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر پاکستان اُسی وقت Response کر دیتا تو خطے میں ایٹمی جنگ شروع ہو سکتی تھی۔ لہٰذا پاکستان کی سلامتی کے ذمے داران کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے، میزائل فائر ہونے کے اس واقعے کی تحقیقات محض بھارت پر چھوڑنے کے بجائے عالمی اداروں کو بھی اس میں شریک ہونا چاہیے، اس کے مکمل نتائج پاکستان کے علم میں بھی لائے جانے چاہئیں اور بھارت کو ضروری اقدامات کا پابند کر کے ایسے واقعات کے اعادے کے خدشے کا یقینی سدباب کرنا چاہیے، تاکہ ہم پر دوبارہ ’’غلطی‘‘ مسلط نہ کی جائے! اس کے علاوہ دنیا کو چاہیے کہ وہ بھارت پر پورا چیک اینڈ بیلنس رکھے، اور اقتصادی و میزائل ٹیکنالوجی جیسی پابندیاں لگائے۔
علی احمد ڈھلوں
بشکریہ ایکسپریس نیوز
Visit Dar-us-Salam PublicationsFor Authentic Islamic books, Quran, Hadith, audio/mp3 CDs, DVDs, software, educational toys, clothes, gifts & more... all at low prices and great service.


0 Comments